اُس رشکِ مہ کی بزم میں جاتے ہی آفتاب
دل سا رفیق میرا، مرے سات سے گیا
Related posts
-
غلام ہمدانی مصحفی
ہم مصحفی بہ کفر تو مشہور ہو چکے آنا قبول اب نہیں اسلام میں ہمیں -
راحت اندوری
اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہمیں پہچانتا ہے عمر گزری ہے ترے شہر میں آتے... -
سعود عثمانی
دہکتی خاک پہ بادل بچھا دیا کس نے پڑی ہے تپتی ہوئی ریت پر ردائےحسین
